بھٹکل
:24/اگست (ایس اؤنیوز)تین ماہ پہلے23جولائی کو بھٹکل سے اُڈپی ضلع کے ہیماڑی کو نجی بس کے ذریعے سفر کرنے کے دوران لاپتہ ہونے والی بھٹکل مخدوم کالونی کی معمر خاتون زلیخہ (60)بدھ کو منگلورو شہر کے سنٹرل ریلوے اسٹیشن میں پائے جانے سے گھروالوں نے راحت کی سانس لی ہے۔
معمر رسیدہ خاتون زلیخہ گونگی ہیں اور گھر میں تنہا رہتی تھیں، ہیماڑی میں رہنے والے اپنے پوتوں کو رمضان کے موقع پر نئے کپڑے وغیرہ دینے کےلئے 23جولائی کو گھر سے نکلی تھیں، لیکن ہیماڑی میں اپنے بیٹے کے گھر پہنچے بغیر وہ لاپتہ ہوگئی تھیں۔
زلیخہ کو دراصل ہیماڑی بس اسٹانڈ پر اترنا تھا لیکن وہ کنداپور بس اسٹانڈ پر اتر کر آٹو رکشا کے ذریعے کوٹیشور کی طرف چلیں، کئی چکر کاٹنےکے بعد بھی خاتون کا بتایا گیا پتہ نہیں ملا۔ آٹوڈرائیور زلیخہ کو سالی گرام بس اسٹانڈ پرچھوڑ کر چلاگیا۔ اس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئیں۔ 28 جولائی کو منگلورو ریلوے اسٹیشن پر نظر آئیں تو وہاں کے سکیورٹی گارڈ نےانہیں کھانا کھلایا پھر اس کے بعد وہ غائب ہوگئیں۔ زلیخہ کے لاپتہ ہونے کو لے کر بھٹکل پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا تھالیکن پولس کو اس تعلق سے کوئی سراغ نہیں ملا۔
قطر میں برسرروزگار زلیخہ کے بیٹے عبدالرزاق کو جیسے ہی ماں کےلاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تو اپنا روزگار چھوڑ کر شہر آئے اور اسی روز سے دن رات ماں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔ کنداپور، اُڈپی ، منگلورو سمیت مختلف مقامات پر ماں کے تعلق سے پوچھ تاچھ کی، ان کی تصویر والے پوسٹر لگائے، فولڈر تقسیم کئے ، اخبارنویسوں سے گفتگو کرکے تعاون مانگا اور ماں کا پتہ دینے والے کو انعا م دینے کا اعلان بھی کیا۔
بیٹےکی کوششیں رنگ لائیں ،بدھ کی دوپہر قریب15-01کو زلیخہ منگلوروسنٹرل ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کے دوران ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی گارڈ کدرولی کی راج شری نے نے رلیخہ کو پہچان کر روک لیااوروہیں سے ان کے بیٹے سید ابرارکو خبر دی اور خاتون کو ریلوے پولس کے حوالے کیا۔ شام میں گھر والے ریلوے اسٹیشن پہنچ کر اپنی ماں کو لے جانےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خاندان والوں نے اعلان کے مطابق ہوم گارڈ راج شری کو 10ہزار روپیوں کا نقد انعام عطاکیا۔
زلیخہ نہ بول سکتی ہیں نہ سن سکتی ہیں۔ گھروالوں نے جب انہیں انہی کی زبان میں بات کرنےکی کوشش کی تو زلیخہ نے اشاروں سے بتایا کہ میں کہیں نہیں گئی یہیں تھی، گھومتی ، سوتی، پچھلے کئی دنوں سے کھاناتک نہیں کھایا کہتے ہوئے گلے مل کر رونے لگیں۔